نئی دہلی، 3؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )لو ک سبھا میں بی جے پی کے ایک رکن نے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں انتخابات کی تاریخ سے پہلے پارٹی امیدواروں کی تشہیر سے جڑے اخراجات کو انتخابی اخراجات میں شامل کئے جانے کا مطالبہ کیا۔وقفہ صفر کے دوران بی جے پی کے شیام چرن گپتا نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے تناظر میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد اخراجات کوامیدوارکے اخراجات میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ کئی سیاسی پارٹیاں الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے سے ایک سال پہلے ہی امیدوار کے ناموں کا اعلان کر دیتے ہیں اور تشہیر بھی شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کی تاریخ سے پہلے سے تشہیر کرنے والے امیدواروں کے اخراجات کو انتخابی اخراجات میں شامل کیا جائے۔وائی ایس آر سی پی کی کے گیتا نے ملک کے دیہی علاقوں میں ناکافی طبی سہولیات کا مسئلہ اٹھایا اور حکومت سے دیہی علاقوں میں ٹیلی میڈیسن اور ای میڈیسن سہولیات کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا ۔گیتا نے کہا کہ ملک کے دیہی اور قبائلی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی ہے اور ساتھ ہی طبی سہولیات کا بھی فقدان ہے، دیہی علاقوں میں بیڈ کی بھی بھاری کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے میں حکومت کو دیہی علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور دینا چاہیے ۔ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے مٹی کے تیل پر سبسڈی کم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی تقسیم کے نظام کے تحت مٹی کے تیل پر سبسڈی کو جاری رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اس مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو کئی خطوط لکھے لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔گزشتہ سالوں میں مٹی کے تیل پر سبسڈی کو کم کیا گیا ہے۔. ہمارا مطالبہ ہے کہ مٹی کے تیل پر سبسڈی ختم نہیں کی جائے کیونکہ یہ غریب کے چولہے کا سوال ہے۔ایل کے جی کلاس کے لیے تین تین لاکھ روپے تک کیپٹیشن فیس لیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کے ایم شان و اس نے کہا کہ اس پر روک لگانے کے لیے مرکزی حکومت کو سخت کارروائی کرنی چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ کیپٹیشن فیس تعلیم کا حق قانون کے خلاف ہے۔بی جے پی کے انشل ورما نے ووٹر شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے آدھار کارڈ کو شہریت سرٹیفکیٹ کا درجہ دئیے جانے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ووٹر شناختی کارڈ کے برعکس اس پر شخص کی آنکھ کی پتلی اور انگلیوں کے نشانات ہوتے ہیں۔انہوں نے اتر پردیش ریاستی صنعتی ڈیولپمنٹ کارپوریشن(یوپی ایس آئی ڈی سی )میں مبینہ بدعنوانی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور الزام لگایا کہ کارپوریشن کے چیئر مین کی طرف سے صنعت لگانے کے خواہش مند کاروباریوں سے رشوت کا مطالبہ کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ یوپی ایس آئی ڈی سی میں آج بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ کوئی صنعتکار اترپردیش میں اپنی صنعت نہیں لگانا چاہتا۔بی جے پی کے نانا پٹولے نے مہاراشٹر کے گودیا اور بھنڈارا اضلاع میں پرائمری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے مرکزی حکومت سے ان اسکولوں میں کمروں، بیت الخلاء ، لائبریری، پینے کے پانی وغیرہ کے انتظامات کے لیے جلد فنڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔انا ڈی ایم کے کے وی پنیرسیلوم نے اپنے حلقہ کرائے سے ہوکر گزرنے والی چنئی- رامیشورم ریل گاڑی میں سیزنل ریل پاس ہولڈر مسافروں کے لیے الگ سے دوکوچ لگائے جانے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں سرکاری بسوں میں دستیاب کرائے جانے والے منرل واٹر کی طرز پر ریل نیر کو ٹرینوں میں 10 روپے کی قیمت پر دستیاب کرایا جائے۔انہوں نے پلوم ایکسپریس کو مانا ، مدو رے تک بڑھانے کا مطالبہ کیا جو کرائی کڑی میں آکر ختم ہو جاتی ہے۔شیوسینا کے شری رنگپا نے ممبئی اور گوا کے درمیان نیشنل ہائی وے - 17کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ پنویل سے انداپور تک سڑک کی تعمیر کا کام تین سال میں مکمل ہونا تھا لیکن انداپور میں آج بھی ٹھیکیدار کام نہیں کر رہے ہیں جبکہ اس کا ٹینڈر 2011میں نکالا گیا تھا۔